KARACHI: CID has claimed arresting a key commander of defunct outfit Harkat Al-Mujahiddin Al-Aalmi here in Karachi and recovering from his possession, heavy amount of arms and ammunitions and literature on Jihad, Geo news reported. The commander, identified as Saifullah, was trained for triggering terrorism in Afghanistan and recently returned from there. SP CID Umar Shahid told Geo news, the CID force raided a house located near Sindh Secretariat over intelligence regarding his presence at there. The recovered weaponry included a rifle, two pistols, cassettes and literature on Jihad, he said adding, he was also wanted in a case of firing in Sakina Imambargah, located in North Nazimabad locality in 2006, which resulted in the death of a person while another was injured. Commanded Saifullah has been shifted to unknown place for investigation

Government of Pakistan has issued a regulation, as per Telecom Act of Pakistan, for possible termination of Telecom services in a particular region or whole of Pakistan, due to any concern relating to national security, told a highly reliable source at Ministry of IT and Telecom.

In simple, as per directive, Government of Pakistan can ask PTA, in case of any national security situation, to order temporary or permanent termination of telecom services of any service procider, in any part or whole of Pakistan.

If implemented in true spirit, this regulation is in favor of Pakistan's national security; however, we have seen in past that rules are used for personalized benefits by political parties, and not for national concerns.

As per this regulation, Government can ask for closure of mobile phone service, landline, internet or any Telecom service, anytime if Government considers it necessary.

کراچی اسٹاک ایکسچینج میںتیزی کا تسلسل جاری۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو اتار چڑھاﺅ کے بعد معمولی تیزی رہی اور کے ایس سی 100 انڈیکس 9800
کراچی،         کراچی اسٹاک ایکسچینج میںتیزی کا تسلسل جاری۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو اتار چڑھاﺅ کے بعد معمولی تیزی رہی اور کے ایس سی 100 انڈیکس 9800 کی نفسیاتی حد پر برقرار رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں 3 ارب 3 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ۔ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 41.40 فیصد زائد جبکہ 57.33 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاﺅسز، انفرادی نوعیت اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مخصوص حصص کی قیمتوں میں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز78 پوائنٹس کے اضافے سے ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس سی 100 انڈیکس 9881 پوائنٹس کی سطح پر بھی ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں کریکشن، پرافٹ ٹیکنگ ،فروخت کے دباﺅ اور چھوٹے سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویے کے باعث کے ایس سی 100 انڈیکس مذکورہ سطح پر برقرار نہ رہ سکا۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس سی 100 انڈیکس 3.07 پوائنٹس اضافے سے 9805.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر 368کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 211 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅ میں اضافہ، 139 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅ میں کمی جبکہ 18 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅ میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں 3 ارب3 کروڑ 47 لاکھ12 ہزار 875 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سرمایہ کاری کی کل مالیت 28 کھرب 17 ارب 49 کروڑ 61 لاکھ 66 ہزار 752 روپے سے بڑھ کر 28 کھرب 20 ارب 53 کروڑ 8 لاکھ 79 ہزار 627 روپے ہوگئی۔ مجموعی طور پر کاروباری حجم22 کروڑ 17 لاکھ 87ہزار 266 شیئرز رہا جو جمعرات کے مقابلے میں6 کروڑ 49لاکھ 46 ہزار 815 شیئرز زائد ہے۔ قیمتوں کے اتار چڑھاﺅ کے حساب سے یونی لیور پاکستان کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 81.51 روپے اضافے سے 2999.97 روپے سیمنز پاک انجینئرنگ کے حصص کی قیمت 48.01 روپے اضافے سے 1348.00روپے پر بند ہوئی۔ نمایاں کمی باٹا پاک لمیٹڈ کے حصص میں ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت 23.50 روپے کمی سے 825.00 روپے جبکہ نیسلے پاکستان کے حصص کی قیمت 18.33 روپے کمی سے1200.01 روپے پر بند ہوئی۔ جمعہ کو لافریج پاکستان کی سرگرمیاں2 کروڑ 58 لاکھ 38 ہزار 515 شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے شیئرز کی قیمت9 پیسے کمی سے 4.39 روپے اوردیوان سلمان کی سرگرمیاں 1 کروڑ98 لاکھ79ہزار 858 شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں جس کے شیئرز کی قیمت 65 پیسے اضافے سے2.80 روپے پر بند ہوئی۔ جمعہ کو کے ایس سی 30 انڈیکس 23.77 پوائنٹس کمی سے 10174.92پوائنٹس، کے ایم آئی 30 انڈیکس 25.04 پوائنٹس کمی سے 14434.14 پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس7.52 پوائنٹس اضافے سے 6956.52 پوائنٹس پر بند ہوا۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے آئندہ تمام ایشوز پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں سیاسی جماعتوں کےکراچی،         متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے آئندہ تمام ایشوز پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے اجلاس میں کیا گیا۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر امتیاز شیخ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ واضح رہے کہ دونوں جماعتیں سندھ حکومت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں اور ان کے درمیان یہ اس نوعیت کا پہلا اجلاس تھا۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کی طرف سے صوبائی وزراءسید سردار احمد، رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر احمد اور فیصل سبزواری اور رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم آفتاب جبکہ مسلم لیگ (فنکشنل) کی طرف سے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جام مدد علی، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مظفر حسین شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیران امتیاز احمد شیخ، امام الدین شوقین اور بابر لغاری شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ اس اجلاس میں صوبے اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اور طے پایا کہ آئندہ بھی دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے جاری رہیں گے سندھ اور پاکستان کے ایشوز پر متفقہ رائے رکھی جائے گی، دونوں جماعتوں کے مابین 1990ءکی دہائی سے گہرا تعلق رہا ہے، پیر پگارا اور الطاف حسین کے درمیان پیار اور دوستی کا رشتہ ہے۔

سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے لہذا یہ طے کیا گیا ہے کہ ملک کی محب وطن جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھنا ضروری ہے۔ اتحاد کے ذریعے تمام مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، ہم دونوں جماعتیں تمام ایشوز پر مشترکہ لائحہ عمل کو ترجیح دیں گی، مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رضا ہارون نے ایک سوال کے جواب میں اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سے مایوس ہو کر مسلم لیگ (فنکشنل) کی طرف رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مخلوط حکومت کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں بلکہ بعض معاملات پر اختلاف رائے ہے جو جمہوریت کا حصہ ہے، ہر کوئی دلائل کے ساتھ اپنا کیس پیش کرتا ہے، کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے جو مزاکرات کے ذریعے حل نہ ہو۔

امتیاز شیخ نے بھی یہی موقف اختیار کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارا کوئی اختلاف نہیں، ہم سب مخلوط حکومت میں ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ فنکشنل اور ایم کیو ایم بہت پہلے سے ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں آئندہ بلدیاتی نظام کے حوالے سے امتیاز شیخ نے کہا کہ تینوں جماعتوں نے مختلف تجاویز دی ہیں۔ صوبے کی بہتری کیلئے ہم کوئی بیچ کا راستہ نکال لیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب پر رضا ہارون نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مسلم لیگ (فنکشنل) کو کور کمیٹی سے نہیں نکالا، یہ کور کمیٹی دراصل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے آپس کے معاملات طے کرنے کیلئے اس وقت بنائی گئی تھی جب حکومت بن رہی تھی۔ مزید کور کمیٹیاں بنائی جائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں ہم اے این پی، فنکشنل لیگ کے ساتھ ہی بیٹھتے ہیں۔

Related Posts with Thumbnails

Best Sites:

Image and video hosting by TinyPic Share/Bookmark
Image and video hosting by TinyPic Image and video hosting by TinyPic Image and video hosting by TinyPic Image and video hosting by TinyPic


free counters

Links Exchange

Downloading Blog
Premium Accounts and software Click Here!

Entertaniment portal
Best portal for Video Click Here!

Information Forum
technology information Forum Click Here!

Blogger Tamplates
Blogger Templates Click Here!

Rapid Auto Downloader

Its For Free User,u can download From Rapidshare using this program, i am personally using this.
Download Here.Some Download can Also Be RESUME by this.If anybody Have other and good one,
so plz write in shoutbox with the downloading link